کچھ پیار جہاں میں ایسے ھیں
اشکوں میں جو پلتے دیکھے ھیں
دشمن تو نہ بدلے اپنے کبھی
ھمدم ہی بدلتے دیکھے ھیں

---------------------------------
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے

ہم بے راہ روں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے

خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے

جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے

ہجر کی شب سونے والے
حشر کو آنکھیں کھولیں گے

پھر کوئی آندھی اُٹھے گی
پنچھی جب پر تولیں گے

نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے

- احمد فراز -

Loading more stuff…

Hmm…it looks like things are taking a while to load. Try again?

Loading videos…