جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیابان ارم دیکھتے ہیں

دل آشفتگاں خال کنج دہن کے
سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں

ترے سرو قامت سے اک قد آدم
قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

تماشا! کہ اے محو آئینہ داری
تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں

سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
کہ شبرو کا نقش قدم دیکھتے ہیں

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

- مرزا غالب -

Loading more stuff…

Hmm…it looks like things are taking a while to load. Try again?

Loading videos…